السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: لا يجزي الجذع إلا من الضأن وحدها، ويجزي الثني من المعز والإبل والبقر باب: جذع (چھ ماہ کا بچہ) صرف بھیڑ کی صورت میں کفایت کرے گا، جبکہ بکری، اونٹ اور گائے کی صورت میں ثنی (دو دانتا) کفایت کرے گا۔
حدیث نمبر: 19058
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، بِطُوسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا زُبَيْدٌ الْأَيَامِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ السُّنَّةَ، وَمَنْ نَحَرَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ. فَقَالَ لَهُ: " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تُوَفِّيَ - أَوْ لَنْ تُجْزِيَ - عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی کے دن سب سے پہلا کام نماز، اس کے بعد قربانی کی جاتی ہے۔ جو یہ طریقہ اختیار کرے گا اس نے سنت کو پا لیا۔“ سیدنا ابو بردہ بن نیار انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نماز سے پہلے قربانی کر دی ہے لیکن میرے پاس جذعہ موجود ہے جو دو دانت والے جانور سے بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے لیکن یہ آپ کے بعد کسی سے کفایت نہ کرے گا۔“