السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرجل يضحي عن نفسه وعن أهل بيته باب: آدمی کا اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے قربانی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19046
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ. ثُمَّ قَالَ: " اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ ". فَفَعَلْتُ فَأَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ وَأَضْجَعَهُ وَذَبَحَهُ وَقَالَ: " بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ "، ثُمَّ ضَحَّى بِهِ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو سینگوں اور سیاہ پاؤں والے، سیاہ آنکھوں والے اور سیاہ پیٹ والے مینڈھے کی قربانی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! چھری لاؤ۔“ پھر فرمایا: ”اسے پتھر پر تیز کر لو۔“ جب انہوں نے چھری تیز کر لی تو آپ ﷺ نے ایک مینڈھا پکڑ کر ذبح کر دیا اور فرمایا: «بِاسْمِ اللهِ، اللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» ”اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! محمد (ﷺ)، آلِ محمد اور امتِ محمد کی طرف سے (اسے) قبول فرما۔“ پھر آپ ﷺ نے قربانی کی۔