السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الأذان والإقامة للفائتة باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ثنا حَيْوَةُ، أنا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبَيْحٍ حَدَّثَهُ أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ⦗٥٩٥⦘ بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ وَلَمْ يُصَلِّ الصُّبْحَ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى آذَاهُمْ حَرُّ الشَّمْسِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَحَّوْا عَنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَذِي مِخْبَرٍ الْحَبَشِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے کہ آپ ﷺ سو گئے اور صبح کی نماز نہیں پڑھی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ میں سے کوئی بھی بیدار نہیں ہوا، جب سورج کی گرمی نے ان کو تکلیف دی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس جگہ سے کوچ کر جائیں، پھر آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر رسول اللہ ﷺ نے فجر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اپنے صحابہ کو حکم دیا، انہوں نے بھی فجر کی دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی اور رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی۔