السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: السمك يصطاده يهودي أو نصراني أو مجوسي أو وثني باب: اس مچھلی کا بیان جسے کوئی یہودی، عیسائی، مجوسی یا بت پرست شکار کرے۔
حدیث نمبر: 18970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كُلْ مَا أَلْقَى الْبَحْرُ وَمَا صِيدَ مِنْهُ، صَادَهُ يَهُودِيٌّ أَوْ نَصْرَانِيٌّ أَوْ مَجُوسِيٌّ ". قَالَ: وَطَعَامُهُ مَا أَلْقَى.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس چیز کو سمندر باہر پھینک دے اور سمندر سے کیا ہوا شکار، چاہے یہودی یا عیسائی یا مجوسی کرے، اس کا کھانا حلال ہے۔