السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: تفسير قوله عز وجل: حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل لغير الله به والمنخنقة والموقوذة والمتردية والنطيحة وما أكل السبع إلا ما ذكيتم وما ذبح على النصب وأن تستقسموا بالأزلام باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر کا بیان: ”تم پر مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، اور گلا گھٹ کر مرنے والا، چوٹ لگ کر مرنے والا، بلندی سے گر کر مرنے والا، سینگ لگ کر مرنے والا، اور وہ جسے درندے نے کھایا ہو سوائے اس کے جسے تم ذبح کر لو، اور جو آستانوں (بتوں) پر ذبح کیا گیا ہو، اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے فال (قسمت) نکالو“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: {وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ} [المائدة: ٣] يَعْنِي: مَا أُهِلَّ لِلطَّوَاغِيتِ كُلِّهَا، {وَالْمُنْخَنِقَةُ} [المائدة: ٣]: الَّتِي تَنْخَنِقُ فَتَمُوتُ، {وَالْمَوْقُوذَةُ} [المائدة: ٣]: الَّتِي ⦗٤١٩⦘ تُضْرَبُ بِالْخَشَبِ حَتَّى تَقِذَهَا فَتَمُوتَ، {وَالْمُتَرَدِّيَةُ} [المائدة: ٣]: الَّتِي تَتَرَدَّى مِنَ الْجَبَلِ فَتَمُوتُ، {وَالنَّطِيحَةُ} [المائدة: ٣]: الشَّاةُ تَنْطَحُ الشَّاةَ، {وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ} [المائدة: ٣] يَقُولُ: مَا أَخَذَ السَّبُعُ فَمَا أَدْرَكْتَ مِنْ هَذَا كُلِّهُ فَتَحَرَّكَ لَهُ ذَنَبٌ أَوْ تَطْرِفُ لَهُ عَيْنٌ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ فَهُوَ حَلَالٌ. وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ هَذَا التَّفْسِيرِ قَالَ: هِيَ الْأَصْنَامُ، وَفِي قَوْلِهِ: وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ يَعْنِي الْقِدَاحَ، كَانُوا يَسْتَقْسِمُونَ بِهَا فِي الْأُمُورِ، ذَلِكُمْ فِسْقٌ يَعْنِي: مَنْ أَكَلَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ فَهُوَ فِسْقٌ.حضرت علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ﴾ [سورة المائدة: 3] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ہے جو بتوں کے نام پر چھوڑا جائے۔ اور «الْمُنْخَنِقَةُ» ایسا جانور جس کا گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو، «الْمَوْقُوذَةُ» ایسا جانور جو لکڑی کی چوٹ سے مارا جائے، «الْمُتَرَدِّيَةُ» ایسا جانور جو پہاڑ سے گر کر مر جائے، «النَّطِيحَةُ» وہ بکری جو دوسری بکری کے سینگ لگنے کی وجہ سے ہلاک ہو جائے، ﴿وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ﴾ [سورة المائدة: 3] جس کو درندے نے پھاڑ کھایا، آپ نے پکڑا تو اس کی دم حرکت کر رہی تھی اور آنکھ بھی متحرک تھی تو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو، یہ حلال ہے۔ ایک دوسری جگہ اس کی تفسیر ﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 3] ہے کہ ایسے جانور جن میں روح ہو اور تم ذبح کر لو وہ حلال ہے، ﴿وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ﴾ [سورة المائدة: 3] جن کو تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور ان کے نام پر مشہور کیا گیا ہو، دوسری تفسیر میں ہے کہ یہ بت ہیں، ﴿وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ﴾ [سورة المائدة: 3] ایسے تیر جن کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں، ﴿ذٰلِكُمْ فِسْقٌ﴾ [سورة المائدة: 3] جس نے ان جانوروں سے کچھ کھایا یہ گناہ ہے۔