السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الصيد يرمى بحجر أو بندقة باب: اس شکار کا بیان جسے پتھر یا غلیل (کی گولی) سے مارا جائے۔
حدیث نمبر: 18945
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَخَرَجْتُ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَإِذَا رَجُلٌ مُتَلَبِّبٌ أَعْسَرُ أَيْسَرُ يَمْشِي مَعَ النَّاسِ كَأَنَّهُ رَاكِبٌ وَهُوَ يَقُولُ: هَاجِرُوا وَلَا تَهَجَّرُوا، وَاتَّقُوا الْأَرْنَبَ أَنْ يَخْذِفَهَا أَحَدُكُمْ بِالْعَصَا، وَلَكِنْ لِيُذَكِّ لَكُمُ الْأَسَلُ وَالرِّمَاحُ وَالنَّبْلُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ هَاجِرُوا وَلَا تَهَجَّرُوا، يَقُولُ: أَخْلِصُوا النِّيَّةَ فِي الْهِجْرَةِ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْمُهَاجِرِينَ عَلَى غَيْرِ نِيَّةٍ مِنْكُمْ فَهَذَا هُوَ التَّهَجُّرُ. قَالَ: وَكَلَامُ الْعَرَبِ أَعْسَرُ أَيْسَرُ وَهُوَ الَّذِي يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا سَوَاءً.حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور عید کے دن نکلا، اچانک ایک شخص جو چادر لپیٹے ہوئے تھا اور دونوں ہاتھوں سے یکساں کام کرنے والا تھا لوگوں کے ساتھ یوں چل رہا تھا جیسے سوار ہو اور کہہ رہا تھا: خلوصِ نیت سے ہجرت کرو، صرف مہاجرین کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے بغیر نیت کے ہجرت نہ کرو اور خرگوش کو لاٹھی سے مارنے سے بچو، لیکن تم اسے نیزہ اور کانٹے سے ذبح کر سکتے ہو۔