السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الأذان والإقامة للفائتة باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبَانُ الْعَطَّارُ، نا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ: " مَنْ يَحْفَظُ عَلَيْنَا الصَّلَاةَ؟ " فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ بِهِ الْغَفْلَةُ " فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ نِمْتَ؟ " فَقَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِأَنْفَاسِكُمْ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] " وَرَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلًا وَذَكَرَ فِيهِ الْأَذَانَ، وَالْأَذَانُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ صَحِيحٌ ثَابِتٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ أَبِي هُرَيْرَةَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ پڑاؤ ڈالا، جب آپ ﷺ خیبر سے لوٹے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہماری نماز کی حفاظت کرے گا؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، (رات کو) وہ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! آپ سو گئے تھے؟“ انہوں نے کہا: میری جان کو اس نے پکڑ لیا جس کو آپ کی جانوں نے پکڑا تھا (یعنی نیند نے)۔ آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی جگہ سے کوچ کرو یہاں تم کو غفلت پہنچی ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی نماز بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے وہ پڑھ لے۔“ اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14]
(ب) مؤطا میں زہری نے ابن مسیب سے مرسلاً نقل کیا ہے اور اس میں اذان کا ذکر کیا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس قصے میں اذان کا کہنا صحیح اور ثابت ہے۔