السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما جاء في ذكاة ما لا يقدر على ذبحه إلا برمي أو سلاح باب: اس جانور کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان جسے تیر مارنے یا ہتھیار کے بغیر ذبح کرنا ممکن نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو مَرْوَانَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ حَرَامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدٍ ابْنَيْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّهُ قَالَ: مَرَّتْ عَلَيْنَا بَقَرَةٌ مُمْتَنِعَةٌ نَافِرَةٌ لَا تَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا نَطَحَتْهُ وَشَدَّتْ عَلَيْهِ، فَخَرَجْنَا عَلَيْهِ نُكِدُّهَا حَتَّى بَلَغْنَا الصَّمَّاءَ وَمَعَنَا غُلَامٌ قِبْطِيٌّ لِبَنِي حَرَامٍ وَمَعَهُ مُشْتَمَلٌ فَشَدَّتْ عَلَيْهِ لِتَنْطَحَهُ فَضَرَبَهَا أَسْفَلَ مِنَ الْمَنْحَرِ وَفَوْقَ مَرْجِعِ الْكَتِفِ فَرَكِبَتْ رَدْعَهَا فَلَمْ يُدْرَكْ لَهَا ذَكَاةٌ. قَالَ جَابِرٌ: فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهَا فَقَالَ: " إِذَا اسْتَوْحَشَتِ الْإِنْسِيَّةُ وَتَمَنَّعَتْ فَإِنَّهُ يُحِلُّهَا مَا يُحِلُّ الْوَحْشِيَّةَ، ارْجِعُوا إِلَى بَقَرَتِكُمْ وَكُلُوهَا ". فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا فَاجْتَزَرْنَاهَا.عبد الرحمن اور محمد، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹے، اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک بھاگی ہوئی سرکش گائے ہمارے پاس سے گزری، وہ جس کے پاس سے بھی گزرتی تو اسے ٹکر مارتی اور اس پر حملہ کرتی تھی۔ ہم اس کے پیچھے نکلے اور اسے تھکاتے ہوئے صماء تک پہنچ گئے۔ ہمارے ساتھ بنو حرام کا ایک قبطی غلام تھا جس کے پاس ایک چھوٹی تلوار تھی، گائے نے اسے ٹکر مارنے کے لیے اس پر حملہ کیا تو اس نے اسے نحر کی جگہ سے نیچے اور کندھے کے جوڑ سے اوپر مارا، تو وہ منہ کے بل گر پڑی اور اسے ذبح کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا حال بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب پالتو جانور وحشی بن جائے اور قابو میں نہ آئے تو جو چیز وحشی جانور کو حلال کرتی ہے وہی اسے بھی حلال کر دیتی ہے، اپنی گائے کی طرف لوٹ جاؤ اور اسے کھا لو۔“ چنانچہ ہم اس کی طرف لوٹے اور اسے ذبح کر کے اس کا گوشت بنا لیا۔