السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما جاء في ذكاة ما لا يقدر على ذبحه إلا برمي أو سلاح باب: اس جانور کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان جسے تیر مارنے یا ہتھیار کے بغیر ذبح کرنا ممکن نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ وَقَدْ جَاعَ الْقَوْمُ فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا فَانْتَهَى إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نُصِبَتِ الْقُدُورُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ. قَالَ: فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ". وَعَنْ عَبَايَةَ عَنْ رَافِعٍ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنْا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ ⦗٤١٣⦘ عَلَيْهِ فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ..سیدنا عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج اپنے دادا سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم تہامہ کے علاقے ذوالحلیفہ میں تھے، لوگ بھوکے تھے انہیں اونٹ اور بکریاں ملیں۔ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو ہانڈیاں چولہوں پر تھیں، رسول اللہ ﷺ نے ہانڈیوں کو انڈیلنے کا حکم دیا۔ پھر تقسیم فرمائی، ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر رکھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ بھاگ گیا لیکن لوگوں کے پاس کمزور سا گھوڑا تھا، ایک شخص نے تیر مار کر اسے روک لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بعض اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں، اگر ان میں کوئی قابو نہ آئے تو اس طرح تیر مارا جائے۔“
(ب) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم کل کے دن دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم سرکنڈوں کے ساتھ ذبح کرسکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہائے اور اس پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کا نام“ لیا گیا ہو تو اسے کھانا جائز ہے، البتہ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں؛ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔“