السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: تسمية الله عند الإرسال باب: (شکاری جانور کو) چھوڑتے وقت اللہ کا نام لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ لَمْ يَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَقَدْ أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَطْعَمْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى ⦗٤٠٠⦘ نَفْسِهِ، فَإِنْ خَالَطَ كَلْبَكَ كِلَابٌ فَقَتَلْنَ وَلَمْ يَأْكُلْنَ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ، وَإِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ.سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھ، اگر شکار کو تو زندہ پالے تو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو۔ اگر کتے نے شکار کے بعد کھایا نہیں بلکہ روکے رکھا؛ اگر کتے نے شکار کرنے کے بعد اس سے کھا لیا تو آپ شکار کا گوشت نہ کھائیں، کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے کیا ہے۔ اگر تیرے کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی شامل ہو کر شکار کو قتل کر دیں اور کھائیں بھی نہیں تو آپ شکار کو نہ کھائیں؛ کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کس نے قتل کیا ہے اور جب آپ تیر چھوڑیں تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ کہہ کر چھوڑو۔“