❮
❯
حدیث نمبر: 18858
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَذَلِكَ إِنْ نَقَضَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَاتَلَ كَانَ لِلْإِمَامِ قِتَالُ جَمَاعَتِهِمْ، قَدْ أَعَانَ عَلَى خُزَاعَةَ وَهُمْ فِي عَقْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَشَهِدُوا قِتَالَهُمْ فَغَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا عَامَ الْفَتْحِ بِغَدْرِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ وَتَرْكِ الْبَاقِينَ مَعُونَةَ خُزَاعَةَ، وَإِيوَائِهِمْ مَنْ قَاتَلَ خُزَاعَةَ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح اگر ان میں سے کوئی ایک آدمی عہد توڑ کر لڑائی کرے تو امام کو ان کی پوری جماعت سے لڑنے کا حق ہے۔ قریش کے تین آدمیوں نے بنو خزاعہ کے خلاف مدد کی، حالانکہ بنو خزاعہ نبی ﷺ کے عہد میں تھے، اور وہ ان کی لڑائی میں شریک ہوئے، تو نبی ﷺ نے فتح مکہ کے سال ان تین آدمیوں کی عہد شکنی کی وجہ سے، اور باقی لوگوں کے بنو خزاعہ کی مدد نہ کرنے اور خزاعہ سے لڑنے والوں کو پناہ دینے کی وجہ سے قریش پر چڑھائی کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18858