السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: نقض أهل العهد أو بعضهم العهد باب: تمام معاہدین (اہلِ عہد) یا ان میں سے بعض کے عہد توڑنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ بَنِي النَّضِيرِ وَمَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ مِنَ الْمَكْرِ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ غَدَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَتَائِبِ فَحَصَرَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ: " إِنَّكُمْ وَاللهِ لَا تَأْمَنُونَ عِنْدِي إِلَّا بِعَهْدٍ تُعَاهِدُونَنِي عَلَيْهِ ". فَأَبَوْا أَنْ يُعْطُوهُ عَهْدًا فَقَاتَلَهُمْ يَوْمَهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ غَدَا عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ بِالْكَتَائِبِ وَتَرَكَ بَنِي النَّضِيرِ وَدَعَاهُمْ إِلَى أَنْ يُعَاهِدُوهُ فَعَاهَدُوهُ فَانْصَرَفَ عَنْهُمْ، وَغَدَا إِلَى بَنِي النَّضِيرِ بِالْكَتَائِبِ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى الْجَلَاءِ فَهَذَا عَهْدُ بَنِي قُرَيْظَةَ.عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر کے قصہ میں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے بارے میں تدبیریں کیں۔ راوی کہتے ہیں کہ صبح کے وقت نبی ﷺ نے لشکر کے ساتھ ان کا محاصرہ کر لیا اور ان سے کہا: ”تم میرے نزدیک حالت امن میں نہیں ہو مگر یہ کہ تم اپنے اس عہد پر رہو، جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔“ انہوں نے عہد دینے سے انکار کر دیا تو آپ نے ان سے قتال کیا۔ پھر بنو قریظہ کی طرف لشکر لے کر گئے اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا۔ جب بنو قریظہ سے عہد طلب کیا تو انہوں نے عہد دے دیا، پھر آپ بنو قریظہ کو چھوڑ کر بنو نضیر کی طرف چلے گئے۔ پھر وہ جلا وطنی پر تیار ہو گئے، یہ بنو قریظہ کا عہد تھا۔