السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الرخصة في الإعطاء في الفداء ونحوه للضرورة باب: بوقتِ ضرورت فدیہ اور اس جیسی دیگر مدات میں مال دینے کی اجازت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّقَّاءِ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنَ الْوَحْيِ شَيْءٌ؟ قَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ. قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: " الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِقَتْلِ مُشْرِكٍ ". وَقَالَ زُهَيْرٌ: فَقُلْتُ لِمُطَرِّفٍ: وَمَا فِكَاكُ الْأَسِيرِ؟ قَالَ: أَنْ يُفَكَّ مِنَ الْعَدُوِّ، وَجَرَتْ بِذَلِكَ السُّنَّةُ. قَالَ مُطَرِّفٌ: الْعَقْلُ: الْمَعْقُلَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ.ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے امیر المومنین! کیا آپ کے پاس وحی سے کوئی خاص چیز ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کچھ بھی نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا فرمایا، صرف اس میں سوجھ بوجھ جو اللہ کسی انسان کو عطا کرتا ہے اور جو اس صحیفہ میں ہے۔“ میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا ہے؟ تو فرمانے لگے: ”دیت اور قیدیوں کی آزادی کے بارے میں اور یہ کہ ”کسی مومن کو مشرک کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔““ پھر کہتے ہیں: میں نے مطرف سے پوچھا: قیدی کو آزاد کرانا کیا ہے؟ فرماتے ہیں کہ دشمن سے آزاد کروائیں، اس طرح سنت جاری ہے اور صلت کہتے ہیں کہ دیت ادا کرنا۔