السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: لا خير في أن يعطيهم المسلمون شيئا على أن يكفوا عنهم باب: مسلمانوں کا دشمنوں کو کوئی چیز اس شرط پر دینا کہ وہ ان سے رک جائیں (جنگ نہ کریں)، اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا خَلَفٌ هُوَ ابْنُ سَالِمٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُرُوجِ مِنْ مَكَّةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْهِجْرَةِ، وَتَبِعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ قَالَ: فَقُتِلَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَوْمَ بِئْرِ ⦗٣٧٨⦘ مَعُونَةَ، وَأُسِرَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ: مَنْ هَذَا؟ وَأَشَارَ إِلَى قَتِيلٍ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ: هَذَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ مَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ. قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ فَنَعَاهُمْ وَقَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَكُمْ أُصِيبُوا، وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوا رَبَّهُمْ فَقَالُوا: رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا، قَالَ: فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ. قَالَ: وَأُصِيبَ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ عُرْوَةُ بْنُ أَسْمَاءِ بْنِ الصَّلْتِ، سُمِّيَ بِهِ عُرْوَةُ وَمُنْذِرُ بْنُ عُمَرَ وَسُمِّيَ بِهِ مُنْذِرٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَجَعَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ.حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی، انہوں نے ہجرت کے متعلقہ حدیث ذکر کی، ان کے ساتھ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے، کہتے ہیں: عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بئر معونہ کے دن قتل کر دیے گئے، عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ قیدی بنا لیے گئے، عامر بن طفیل نے مقتول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ کون ہے؟ تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عامر بن فہیرہ ہیں۔ اس نے کہا: میں نے اس کے قتل کے بعد دیکھا کہ اسے آسمان و زمین کے درمیان اٹھایا گیا، راوی کہتے ہیں کہ ان کے قتل کی خبر نبی ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی شہید کر دیے گئے تو انہوں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اے ہمارے رب! ہمارے بھائیوں کو خبر دے دینا کہ تو ہم سے راضی اور ہم تجھ سے راضی ہیں“۔ راوی کہتے ہیں: ان کی جانب سے خبر دی گئی۔ اس دن عروہ بن اسماء بن صلت جس کو عروہ اور منذر بن عمر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔