السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في مدة الهدنة باب: جنگ بندی (صلح) کی مدت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18810
وَرَوَى عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَتِ الْهُدْنَةُ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلِ مَكَّةَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْبَعَ سِنِينَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ⦗٣٧٢⦘ الْقَاسِمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ. الْمَحْفُوظَ هُوَ الْأَوَّلُ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ هَذَا يَأْتِي بِمَا لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْأَئِمَّةِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور اہل مکہ کے درمیان حدیبیہ کے سال 4 سال کی صلح تھی۔
اس روایت کا راوی عاصم بن عمر بن حفص عمری بہت ضعیف ہے۔ محفوظ روایت پہلی ہی ہے، یہ عاصم بن عمر ایسی روایات بیان کرتا ہے جن میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، یحییٰ بن معین، بخاری اور دیگر ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔