السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في مدة الهدنة باب: جنگ بندی (صلح) کی مدت کے متعلق کیا مروی ہے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَتِ الْهُدْنَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ عَشْرَ سِنِينَ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور آپ ﷺ اور ان (قریش) کے درمیان جنگ بندی (کا معاہدہ) دس سال کے لیے تھا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ: فَدَعَتْ قُرَيْشٌ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو فَقَالُوا: اذْهَبْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَصَالِحْهُ، وَلَا يَكُونَنَّ فِي صُلْحِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ عَنَّا عَامَهُ هَذَا، لَا تُحَدِّثُ الْعَرَبُ أَنَّهُ دَخَلَهَا عَلَيْنَا عَنْوَةً. فَخَرَجَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو مِنْ عِنْدِهِمْ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا قَالَ: " قَدْ أَرَادَ الْقَوْمُ الصُّلْحَ حِينَ بَعَثُوا هَذَا الرَّجُلَ ". فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرَى بَيْنَهُمَا الْقَوْلُ حَتَّى وَقَعَ الصُّلْحُ عَلَى أَنْ تُوضَعَ الْحَرْبُ بَيْنَهُمَا عَشْرَ سِنِينَ، وَأَنْ يَأْمَنَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَأَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ عَامَهُمْ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَدِمَهَا خَلَّوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا بِسِلَاحِ الرَّاكِبِ، وَالسُّيُوفِ فِي الْقُرُبِ، وَأَنَّهُ مَنْ أَتَانَا مِنْ أَصْحَابِكَ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ، وَأَنَّهُ مَنْ أَتَاكَ مِنَّا بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَدْتَهُ، وَأَنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ عَيْبَةٌ مَكْفُوفَةٌ، وَأَنَّهُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما حدیبیہ کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ قریش نے سہیل بن عمر کو بلایا اور کہا: جاؤ اس شخص یعنی محمد ﷺ سے اس بات پر صلح کر لینا کہ وہ آئندہ سال مکہ میں تین دن کے لیے قیام کر لیں اور مکہ میں داخلہ کے وقت اسلحہ اور تلوار میانوں میں ہوں گی۔ اگر آپ کے صحابہ میں سے کوئی بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر ہمارے پاس آ گیا تو ہم اسے واپس نہ کریں گے اور ہمارا کوئی فرد اپنے ولی کی اجازت کے بغیر گیا تو آپ اسے واپس کریں گے۔ یہ ہمارے اور آپ کے درمیان بند راز ہے جس میں کسی قسم کی کوئی چوری نہیں ہے۔