السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في تعشير أموال بني تغلب إذا اختلفوا بالتجارة باب: بنو تغلب جب مختلف علاقوں میں تجارت کے لیے جائیں تو ان کے اموال پر عشر (دسواں حصہ) لگانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18806
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ عُمَرُ أَلَّا تُعَشِّرَ بَنِي تَغْلِبَ فِي السَّنَةِ إِلَّا مَرَّةً.حافظ ثناء اللہ
زید بن حدیر کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ بنو تغلب سے سال میں ایک مرتبہ عشر وصول کیا جائے۔