حدیث نمبر: 18805
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْهُمْ نِصْفَ عُشْرِ أَمْوَالِهِمْ، وَنَهَانِي أَنْ أَعْشُرَ مُسْلِمًا أَوْ ذَا ذِمَّةٍ يُؤَدِّي الْخَرَاجَ. قَالَ: يَعْنِي فِيمَا أَظُنُّ بِقَوْلِهِ مُسْلِمًا يَقُولُ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا أُرْسِلَ إِلَى نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ، وَقَوْلُهُ أَوْ ذَا ذِمَّةٍ يُؤَدِّي ⦗٣٦٦⦘ الْخَرَاجَ يَقُولُ: إِنَّ أَهْلَ الذِّمَّةِ لَا يُعْرَضُ لَهُمْ فِي مَوَاشِيهِمْ وَلَا فِي عُشْرِ زُرُوعِهِمْ وَثِمَارِهِمْ إِلَّا بَنِي تَغْلِبَ؛ لِأَنَّهُمْ صُولِحُوا عَلَى ذَلِكَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي صُلْحِ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وِلَايَتِهِ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ تَعْشِيرُ أَمْوَالِهِمُ الَّتِي يَتَّجِرُونَ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ

ایاد بن حدیر فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے بنو تغلب کے عیسائیوں کی جانب بھیجا اور حکم دیا کہ ان کے مالوں سے بیسواں حصہ وصول کرو اور مجھے منع فرمایا کہ کسی مسلمان یا ذمی شخص سے جو خراج ادا کرتے ہیں، ان سے عشر وصول نہ کرو۔ فرماتے ہیں: مسلمان سے مراد وہ ہے جو ان میں سے مسلمان ہو جائے کیونکہ آپ نے تو بنو تغلب کے عیسائیوں کی جانب بھیجا تھا کہ ذمی شخص سے مویشیوں، کھیتی اور پھلوں کا عشر وصول نہیں کیا جاتا، سوائے بنو تغلب کے کیونکہ ان سے صلح ہی اس پر ہوئی تھی۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ بھی احتمال ہے کہ جو ذمی لوگوں کی ولایت میں رہتے تھے، جن سے صلح نہ تھی، ان کے تجارتی مال سے عشر وصول کیا جاتا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18805
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم برقم ١٨٨٠٠»