السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في ذبائح نصارى بني تغلب باب: بنو تغلب کے عیسائیوں کے ذبیحہ کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18802
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَى الْعَرَبِ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ} [المائدة: ٥١]..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرب کے عیسائیوں کے ذبیحہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 51] ”اور جو تم میں سے ان کے ساتھ دوستی رکھے وہ انہی میں سے ہے۔“