السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في هدايا المشركين للإمام باب: مشرکین کی طرف سے امام کے لیے تحائف کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ الْهَوْزَنِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو يَا بِلَالُ أَجِبْ ⦗٣٦٢⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ مُنَاخَاتٍ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ، فَاسْتَأْذَنْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرْ فَقَدْ جَاءَكَ اللهُ بِقَضَائِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " أَلَمْ تَرَ إِلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الْأَرْبَعِ؟ " فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: " إِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ وَمَا عَلَيْهِنَّ فَإِنَّ عَلَيْهِنَّ كِسْوَةً وَطَعَامًا أَهْدَاهُنَّ إِلِيَّ عَظِيمُ فَدَكَ فَاقْبِضْهُنَّ وَاقْضِ دَيْنَكَ "، فَفَعَلْتُ.عبداللہ ہوزنی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور پوچھا: اے بلال رضی اللہ عنہ! رسول اللہ ﷺ کے خرچے کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے حدیث ذکر کی، جس میں تھا کہ ایک انسان دوڑتا ہوا آیا اور کہا: اے بلال رضی اللہ عنہ! رسول اللہ ﷺ کو بلاؤ، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، چار اونٹنیاں سامان سے لدی ہوئی تھیں۔ میں نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اللہ نے آپ کے قرض کی ادائیگی کا بندوبست کر دیا ہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا آپ ان چار سامان سے لدی ہوئی اونٹنیوں کی طرف نہیں دیکھتے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سب تیرے لیے ہیں اور ان پر کپڑے اور کھانا ہے جو فدک کے امیر نے مجھے تحفے میں دیا ہے، یہ لے جا کر اپنا قرض ادا کرو۔“ کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا۔