السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الحربي إذا لجأ إلى الحرم وكذلك من وجب عليه حد باب: حربی کافر جب حرم میں پناہ لے لے، اور اسی طرح وہ شخص جس پر کوئی حد واجب ہو، اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِي الْحِلِّ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْحَرَمِ فَإِنَّهُ لَا يُجَالَسُ وَلَا يُكَلَّمُ وَلَا يُؤْذَى، وَيُنَاشَدُ حَتَّى يَخْرُجَ، فَإِذَا خَرَجَ أُقِيمَ عَلَيْهِ مَا أَصَابَ، فَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِي الْحِلِّ ثُمَّ أُدْخِلَ الْحَرَمَ فَأَرَادُوا أَنْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ مَا أَصَابَ أَخْرَجُوهُ مِنَ الْحَرَمِ إِلَى الْحِلِّ، وَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِي الْحَرَمِ أُقِيمَ عَلَيْهِ فِي الْحَرَمِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا مِِنْ رَأْيِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَقَدْ تَرَكْنَاهُ بِالظَّوَاهِرِ الَّتِي وَرَدَتْ فِي إِقَامَةِ الْحُدُودِ دُونَ تَخْصِيصِ الْحَرَمِ بِتَرْكِهَا فِيهِ مِنْ صَاحِبِ الشَّرِيعَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس نے حل (حدودِ حرم سے باہر) میں قتل یا چوری کی، پھر وہ حرم میں داخل ہو گیا تو ایسے شخص کو نہ پاس بٹھایا جائے، نہ اس سے کلام کیا جائے اور نہ ہی اسے پناہ دی جائے، بلکہ اس سے حرم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے، جب وہ حرم سے نکل آئے تو اس پر حد جاری کی جائے۔ اگر کسی نے حل میں قتل یا چوری کی، پھر اسے حرم میں اس نیت سے لایا گیا کہ اس پر حد قائم کی جائے تو تم اسے حرم سے نکال کر حل میں لے آؤ، اور اگر کسی نے حرم میں ہی قتل یا چوری کی تو پھر حرم کے اندر ہی اس پر حد جاری کی جائے گی۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ رائے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ہے جسے ہم نے ان ظاہری دلائل کی وجہ سے ترک کر دیا ہے جو حد قائم کرنے کے بارے میں وارد ہیں، جن میں حرم کی تخصیص نہیں ہے۔