السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الحربي إذا لجأ إلى الحرم وكذلك من وجب عليه حد باب: حربی کافر جب حرم میں پناہ لے لے، اور اسی طرح وہ شخص جس پر کوئی حد واجب ہو، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18784
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا مَعْنَى ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهَا لَمْ يُحَلَّلْ أَنْ يُنْصَبَ عَلَيْهَا الْحَرْبُ حَتَّى تَكُونَ كَغَيْرِهَا، فَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَمَا قُتِلَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَخُبَيْبٌ بِقَتْلِ أَبِي سُفْيَانَ فِي دَارٍ بِمَكَّةَ غِيلَةً إِنْ قُدِرَ عَلَيْهِ، وَهَذَا فِي الْوَقْتِ الَّذِي كَانَتْ فِيهِ مُحَرَّمَةً، فَدَلَّ عَلَى أَنَّهَا لَا تَمْنَعُ أَحَدًا مِنْ شَيْءٍ وَجَبَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهَا إِنَّمَا يُمْنَعُ مِنْ أَنْ يُنْصَبَ عَلَيْهَا الْحَرْبُ كَمَا يُنْصَبُ عَلَى غَيْرِهَا.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا معنی، واللہ اعلم، یہ ہے کہ مکہ پر جنگ مسلط کرنا حلال نہیں کیا گیا کہ وہ دوسرے شہروں کی طرح ہو جائے۔ جب سیدنا عاصم بن ثابت اور خبیب رضی اللہ عنہما شہید کیے گئے تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اگر ابوسفیان پر قابو پایا جا سکے تو اسے مکہ کے ایک گھر میں چپکے سے قتل کر دیا جائے، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مکہ حرمت والا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حرم کسی شخص کو اس چیز سے نہیں بچاتا جو اس پر واجب ہو چکی ہو، بلکہ صرف اس بات سے روکا گیا ہے کہ اس پر اس طرح جنگ مسلط کی جائے جیسے دوسرے علاقوں پر کی جاتی ہے۔