حدیث نمبر: 18736
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى بَزْرَجِ سَابُورَ فَقَالَ: لَا تَضْرِبَنَّ رَجُلًا سَوْطًا فِي جِبَايَةِ دِرْهَمٍ، وَلَا تَبِيعَنَّ لَهُمْ رِزْقًا وَلَا كِسْوَةَ شِتَاءٍ وَلَا صَيْفٍ، ⦗٣٤٦⦘ وَلَا دَابَّةً يَعْتَمِلُونَ عَلَيْهَا، وَلَا تُقِمْ رَجُلًا قَائِمًا فِي طَلَبِ دِرْهَمٍ. قَالَ: قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذًا أَرْجِعَ إِلَيْكَ كَمَا ذَهَبْتُ مِنْ عِنْدِكَ. قَالَ: وَإِنْ رَجَعْتَ كَمَا ذَهَبْتَ وَيْحَكَ إِنَّمَا أُمِرْنَا أَنْ نَأْخُذَ مِنْهُمُ الْعَفْوَ، يَعْنِي الْفَضْلَ.
حافظ ثناء اللہ

ثقیف کے ایک شخص سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے بزرج سابور پر عامل مقرر کیا اور فرمایا: درہم کی وصولی میں کسی شخص کو کوڑے سے مت مارنا، ان کا رزق اور گرمی و سردی کا لباس فروخت نہ کرنا اور نہ ہی وہ جانور جس پر وہ کام کاج کرتے ہوں اور کسی شخص کو درہم کی وصولی کے لیے (سختی سے) کھڑا نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: اے امیر المؤمنین! تب تو میں ویسے ہی واپس آؤں گا جیسے آپ کے پاس سے جا رہا ہوں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اسی حالت میں واپس آئے تو تجھ پر افسوس ہے، ہمیں تو ان سے زائد مال لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18736
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»