حدیث نمبر: 18696
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَامِعٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: خَرَجَ قَوْمٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي أَسَدٍ وَقَدْ أَرْمَلُوا، فَسَأَلُوهُمُ الْبَيْعَ وَقَدْ رَاحَ عَلَيْهِمْ مَالٌ لَهُمْ حَسَنٌ، قَالُوا: مَا عِنْدَنَا بَيْعٌ، فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى، قَالُوا: مَا نُطِيقُ قِرَاكُمْ، فَلَمْ يَزَلْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْأَعْرَابِ حَتَّى اقْتَتَلُوا، فَتَرَكَتْ لَهُمُ الْأَعْرَابُ الْبُيُوتَ وَمَا فِيهَا، فَأَخَذُوا لِكُلِّ عَشَرَةٍ مِنْهُمْ شَاةً. قَالَ: فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: لَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِي هَذَا لَفَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ وَأَهْلِ الذِّمَّةِ بِنُزُلِ لَيْلَةٍ لِلضَّيْفِ. قَالَ قَيْسٌ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَأَعْطَى كُلَّ عَشَرَةٍ شَاةً، وَأَنَّهَا كَانَتْ سُنَّةً. قَالَ: وَقَدْ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ يَوْمَئِذٍ فَأُكْفِئَتْ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِخَيْبَرَ قَالَ قَيْسٌ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ بِنُزُلِ لَيْلَةٍ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُعَاهَدِينَ. قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى: قَدْ أَذْكُرُ أَنَّ أَهْلَ الْأَرْضِ كَانُوا يَسْتَقْبِلُونَنَا بِنُزُلِ لَيْلَةٍ نَقُولُ بِالْفَارِسِيَّةِ شام. قَالَ التَّرْقُفِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: يَقُولُونَ شام أَيْ عَشَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ

قیس بن مسلم سے مروی ہے کہ حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگ کوفہ سے مدینہ کو روانہ ہوئے۔ وہ بنو اسد کے ایک قبیلے کے پاس آئے۔ وہ بے توشہ تھے، انہوں نے ان سے کچھ فروخت کرنے کا کہا اور ان کے پاس بہترین مال بھی تھا۔ انہوں نے مال فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے ضیافت کا تقاضا کیا تو انہوں نے کہا: ہم تمہاری ضیافت بھی نہیں کر سکتے۔ پھر ان کے درمیان لڑائی ہوئی تو دیہاتی اپنے گھر مال سمیت خالی کر گئے، پھر ان میں سے ہر ایک کے حصے میں دس دس بکریاں آئیں۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے آ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا اگر میں جاتا تو میں یوں یوں کرتا۔ پھر انہوں نے شہروں اور ذمی لوگوں کو خط لکھے کہ وہ رات کے مہمان کی ضیافت کیا کریں۔
(ب) عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم فرمائیں، ہر ایک کے حصے میں دس دس بکریاں آئیں۔ یہ سنت ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ خیبر کے موقع پر آپ ﷺ نے ہنڈیاں انڈیل دینے کا حکم فرمایا۔
(ج) ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں اور مجاہدین کے درمیان ایک دن کی ضیافت مقرر فرمائی۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ لوگ رات کی ضیافت کے ساتھ استقبال کرتے، فارسی میں جس کو شام کہتے ہیں، یعنی رات کا کھانا۔ ﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 75]

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18696