السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في ضيافة من نزل به باب: جو مہمان بن کر آئے اس کی ضیافت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18693
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا لَيْثٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَنَا، فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ ". ⦗٣٣٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ہمیں کسی قوم کے پاس بھیجتے ہیں، وہ ہماری ضیافت نہ کریں تو؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے پاس مہمان ٹھہرو، اگر وہ تمہارے لیے مناسب ضیافت کا اہتمام کریں تو قبول کرلو، اگر وہ ضیافت کا اہتمام نہ کریں تو پھر ضیافت کا مناسب حق ان سے لے سکتے ہو۔“