حدیث نمبر: 18640
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِهِ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦] قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ، قُلْتُ: خَاصَّةً؟ قَالَ: خَاصَّةً، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ إِذَا كَانَتْ نَزِرَةً أَوْ مِقْلَاةً تَنْذِرُ: لَئِنْ وَلَدَتْ وَلَدًا لَتَجْعَلَنَّهُ فِي الْيَهُودِ تَلْتَمِسُ بِذَلِكَ طُولَ بَقَائِهِ، فَجَاءَ الْإِسْلَامُ وَفِيهِمْ مِنْهُمْ، فَلَمَّا أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَبْنَاؤُنَا وَإِخْوَانُنَا فِيهِمْ، فَسَكَتَ عَنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦]، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ خُيِّرَ أَصْحَابُكُمْ، فَإِنِ اخْتَارُوكُمْ فَهُمْ مِنْكُمْ، وَإِنِ اخْتَارُوهُمْ فَأَجْلُوهُمْ مَعَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو بشر اللہ کے اس فرمان ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] کے بارے میں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اسلام میں زبردستی نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: یہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے پوچھا: خاص انصار کے متعلق؟ فرمایا: خاص انصار کے بارے میں۔ ان کی ایک عورت جب نذر مانتی کہ اگر اس نے بچہ جنم دیا تو اس کو یہود کے ساتھ ملا دے گی، وہ اس کی لمبی زندگی کی متلاشی تھی۔ جب اسلام آیا تو بعض لوگ اس طرح کے تھے۔ جب بنو نضیر جلا وطن کیے گئے تو انصار نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے بیٹے اور بھائی ان میں موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے تو یہ آیت ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ان لوگوں کو اختیار دیا گیا ہے، اگر ان کے ساتھ رہنا چاہیں تو جلا وطن کر دو، اگر تمہارے پاس رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18640
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»