السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: من يؤخذ منه الجزية من أهل الكتاب، وهم اليهود والنصارى باب: اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ میں سے جن سے جزیہ لیا جائے گا ان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَأَنْ لَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ، وَإِنَّمَا قِيلَ الْحَجُّ الْأَكْبَرُ مِنْ أَجْلِ قَوْلِ النَّاسِ الْحَجَّ الْأَصْغَرَ، فَنَبَذَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّاسِ فِي ذَلِكَ الْعَامِ فَلَمْ يَحُجَّ فِي الْعَامِ الْقَابِلِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مُشْرِكٌ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْعَامِ الَّذِي نَبَذَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ} [التوبة: ٢٨] إِلَى قَوْلِهِ: {عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [التوبة: ٢٨]، فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُوَافُونَ بِالتِّجَارَةِ فَيَنْتَفِعُ بِهَا الْمُسْلِمُونَ، فَلَمَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ أَنْ لَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَجَدَ الْمُسْلِمُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قُطِعَ عَنْهُمْ مِنَ التِّجَارَةِ الَّتِي كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُوَافُونَ بِهَا، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ} [التوبة: ٢٨]، ثُمَّ أَحَلَّ فِي الْآيَةِ الَّتِي تَتْبَعُهَا الْجِزْيَةَ، وَلَمْ تَكُنْ تُؤْخَذُ قَبْلَ ذَلِكَ، فَجَعَلَهَا عِوَضًا مِمَّا مَنَعَهُمْ مِنْ مُوَافَاةِ الْمُشْرِكِينَ بِتِجَارَاتِهِمْ فَقَالَ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩]، فَلَمَّا أَحَلَّ اللهُ ذَلِكَ لِلْمُسْلِمِينَ عَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ عَاضَهُمْ أَفْضَلَ مِمَّا كَانُوا وَجَدُوا عَلَيْهِ مِمَّا كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُوَافُونَ بِهِ مِنَ التِّجَارَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ إِلَى قَوْلِهِ: حَجَّةَ الْوَدَاعِ مُشْرِكٌ دُونَ مَا بَعْدَهُ، وَأَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے منی میں قربانی کے دن اعلان کرنے کے لیے روانہ کیا کہ ”آئندہ سال مشرک حج کے لیے نہ آئے۔ بیت اللہ کا کپڑے اتار کر طواف نہ کیا جائے اور حج اکبر قربانی کا دن ہے۔“ یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں کا حج اصغر کہنے کی وجہ سے حج اکبر کہا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سال اعلان کروا دیا اور آئندہ سال کسی مشرک نے نبی ﷺ کے ساتھ حج نہیں کرنا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسی سال جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اعلان کروایا یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ﴾ [سورة التوبة: 28] ”اے ایمان والو! مشرک پلید ہیں وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں“ تا ﴿عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ [سورة النساء: 26] ”وہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“
مشرکین تجارت کی غرض سے آتے، جن سے مسلمان فائدہ حاصل کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا مسجدِ حرام میں داخلہ بند کر دیا تو مسلمانوں نے خیال کیا کہ تجارت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ﴾ [سورة التوبة: 28]
”اگر تمہیں فقیری کا ڈر ہے تو اللہ تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا“، تو پھر ان سے جزیہ لینا حلال کر دیا گیا جو اس سے پہلے نہ لیا جاتا تھا۔ یہ اس کا بدل تھا جو وہ مشرکین کی تجارت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ فرمایا: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ [سورة التوبة: 29] ”ان لوگوں سے جہاد کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں جانتے اور دین حق کو اہل کتاب سے قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔“ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے یہ حلال کر دیا تو وہ پہچان گئے کہ اللہ نے ان کو بہتر بدلہ عطا کر دیا ہے جو وہ مشرکین کی تجارت سے حاصل کرتے تھے۔