السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: إظهار دين النبي صلى الله عليه وسلم على الأديان باب: نبی کریم ﷺ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، فِي قِصَّةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ حِينَ فَرَغَ مِنَ الْيَمَامَةِ قَالَ: فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَهُوَ بِالْيَمَامَةِ: مِنْ عَبْدِ اللهِ أَبِي بَكْرٍ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَالَّذِينَ مَعَهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالتَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ، سَلَامٌ عَلَيْكُمْ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا ⦗٣٠٣⦘ هُوَ، أَمَّا بَعْدُ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ وَلِيَّهُ وَأَذَلَّ عَدُوَّهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ فَرْدًا، فَإِنَّ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ هُوَ قَالَ: {وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ} [النور: ٥٥]- وَكَتَبَ الْآيَةَ كُلَّهَا وَقَرَأَ الْآيَةَ - وَعْدًا مِنْهُ لَا خُلْفَ لَهُ، وَمَقَالًا لَا رَيْبَ فِيهِ، وَفَرَضَ الْجِهَادَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ} [البقرة: ٢١٦]- حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَاتِ - فَاسْتَتِمُّوا بِوَعْدِ اللهِ إِيَّاكُمْ، وَأَطِيعُوهُ فِيمَا فَرَضَ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ عَظُمَتْ فِيهِ الْمُؤْنَةُ، وَاسْتَبَدَّتِ الرَّزِيَّةُ، وَبَعُدَتِ الْمَشَقَّةُ، وَفُجِعْتُمْ فِي ذَلِكَ بِالْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ فَإِنَّ ذَلِكَ يَسِيرٌ فِي عَظِيمِ ثَوَابِ اللهِ فَاغْزُوا رَحِمَكُمُ اللهُ فِي سَبِيلِ اللهِ {خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ} [التوبة: ٤١] كَتَبَ الْآيَةَ، أَلَا وَقَدْ أَمَرْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْمَسِيرِ إِلَى الْعِرَاقِ، فَلَا يَبْرَحْهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ أَمْرِي، فَسِيرُوا مَعَهُ وَلَا تَتَثَاقَلُوا عَنْهُ، فَإِنَّهُ سَبِيلٌ يُعْظِمُ اللهُ فِيهِ الْأَجْرَ لِمَنْ حَسُنَتْ فِيهِ نِيَّتُهُ وَعَظُمَتْ فِي الْخَيْرِ رَغْبَتُهُ، فَإِذَا وَقَعْتُمُ الْعِرَاقَ فَكُونُوا بِهَا حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمْرِي، كَفَانَا اللهُ وَإِيَّاكُمْ مُهِمَّاتِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ قَالَ الشَّيْخُ: ثُمَّ بَيَّنَ فِي التَّوَارِيخِ وُرُودَ كِتَابِهِ عَلَيْهِ بِالسَّيْرِ إِلَى الشَّامِ وَإِمْدَادِ مَنْ بِهَا مِنْ أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ وَمَا كَانَ مِنَ الظَّفَرِ لِلْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أَجْنَادِينَ فِي أَيَّامِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمَا كَانَ مِنْ خُرُوجِ هِرَقْلَ مُتَوَجِّهًا نَحْوَ الرُّومِ، وَمَا كَانَ مِنَ الْفُتُوحِ بِهَا وَبِالْعِرَاقِ وَبِأَرْضِ فَارِسَ وَهَلَاكِ كِسْرَى وَحَمْلِ كُنُوزِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي أَيَّامِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.محمد بن اسحاق بن یسار جنگ یمامہ سے فراغت کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ”جب وہ ابھی یمامہ میں ہی تھے:“ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم اور ان کی اتباع کرنے والوں کے نام۔ تم پر سلامتی ہو، میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ حمد و ثنا کے بعد تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا، اپنے بندے کی مدد کی، اپنے دوست کو غلبہ عطا کیا اور اپنے دشمن کو ذلیل کیا اور اکیلے نے لشکروں کو غالب کیا۔ یقیناً اللہ وہ ذات ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ﴾ [سورة النور: 55] اور اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ زمین میں ضرور خلیفہ بنیں گے جیسا کہ ان سے پہلے لوگ خلیفہ بنے۔۔۔
یہ مکمل آیت تلاوت کی اور لکھی۔ آپ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرو گے اور اس مال میں جس میں شک نہیں اور جہاد کو مومنوں پر فرض قرار دیا ہے۔ فرمایا: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 216] تمہارے اوپر قتال فرض کیا گیا حالانکہ وہ تمہیں ناپسند بھی ہے۔ یہاں تک کہ آیات سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم اللہ کے وعدوں کو پورا کرو، فرض کردہ اشیاء میں اس کی اطاعت کرو۔ اگرچہ اس میں سخت مشقت اٹھانی پڑے اور مسافت دور کی ہو۔ تم اپنی جانوں اور مالوں میں آزمائش کیے گئے۔ یہ اللہ سے ثواب کے حصول میں زیادہ آسان ہے۔ اللہ تمہارے اوپر رحم فرمائے۔ اللہ کے راستے میں غزوہ کرو: ﴿خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 41] ہلکے اور بوجھل، تم اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو۔ خبردار! میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو عراق جانے کا حکم دیا ہے۔ میرا حکم آنے تک وہاں رہنا۔ تم نے اس کے ساتھ چلنا ہے، پیچھے نہیں رہنا، یہ اللہ کا راستہ ہے جس میں اچھی جنت والے کا ثواب عظیم ہے اور رغبت کی بنا پر بڑی بھلائی ہے، جب تم عراق چلے جاؤ تو میرے حکم تک وہاں رہنا۔ اللہ ہمیں اور تمہیں دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے کفایت کرے۔ تم پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکات ہوں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر تاریخ میں وضاحت ہے کہ شام جانے کے لیے خط لکھا اور باقی لشکروں کے امراء کو لکھا کہ وہ اس کی امداد کریں۔ پھر جو ان کو کامیابی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں نصیب ہوئی اور ہرقل کا روم کی جانب نکلنا اور جو ان کے لیے عراق، فارس فتح ہوئے، کسریٰ کی ہلاکت اور کسریٰ کے خزانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ لائے گئے۔