السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: إظهار دين النبي صلى الله عليه وسلم على الأديان باب: نبی کریم ﷺ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلْقَمَةَ، يَرُدُّ الْحَدِيثَ إِلَى جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَوَالَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ الْعُرْيَ وَالْفَقْرَ وَقِلَّةَ الشَّيْءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرُوا فَوَاللهِ لَأَنَا بِكَثْرَةِ الشَّيْءِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ مِنْ قِلَّتِهِ، وَاللهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِيكُمْ حَتَّى يَفْتَحَ اللهُ أَرْضَ فَارِسَ وَأَرْضَ الرُّومِ وَأَرْضَ حِمْيَرَ، وَحَتَّى تَكُونُوا أَجْنَادًا ثَلَاثَةً، جُنْدًا بِالشَّامِ، وَجُنْدًا بِالْعِرَاقِ، وَجُنْدًا بِالْيَمَنِ، وَحَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ الْمِائَةَ فَيَسْخَطَهَا ". قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ وَمَنْ يَسْتَطِيعُ الشَّامَ وَبِهِ الرُّومُ ذَوَاتُ الْقُرُونِ؟ قَالَ: " وَاللهِ لَيَفْتَحَنَّهَا اللهُ عَلَيْكُمْ، وَلَيَسْتَخْلِفَنَّكُمْ فِيهَا، حَتَّى يَظَلَّ الْعِصَابَةُ الْبِيضُ مِنْهُمْ قُمُصُهُمُ، الْمُلْحَمَةُ أَقْفَاؤُهُمْ، قِيَامًا عَلَى الرُّوَيْجِلِ الْأَسْوَدِ مِنْكُمُ الْمَحْلُوقِ مَا أَمَرَهُمْ مِنْ شَيْءٍ فَعَلُوهُ، وَإِنَّ بِهَا رِجَالًا لَأَنْتُمْ أَحْقَرُ فِي أَعْيُنِهِمْ مِنَ الْقِرْدَانِ فِي أَعْجَازِ الْإِبِلِ ". قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اخْتَرْ لِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ. قَالَ: " إِنِّي أَخْتَارُ لَكَ الشَّامَ فَإِنَّهُ صَفْوَةُ اللهِ مِنْ بِلَادِهِ، وَإِلَيْهِ تُجْتَبَى صَفْوَتُهُ مِنْ عِبَادِهِ، يَا أَهْلَ الْيَمَنِ عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ، فَإِنَّ مِنْ صَفْوَةِ اللهِ مِنْ أَرْضِهِ الشَّامَ، أَلَا فَمَنْ أَبَى فَلْيَسْتَبْقِ فِي غُدُرِ الْيَمَنِ، فَإِنَّ اللهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ ". قَالَ أَبُو عَلْقَمَةَ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعْتَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي حُرِّ بْنِ سُهَيْلٍ السُّلَمِيِّ، وَكَانَ عَلَى الْأَعَاجِمِ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، فَكَانَ إِذَا رَاحُوا إِلَى مَسْجِدٍ نَظَرُوا إِلَيْهِ وَإِلَيْهِمْ قِيَامًا حَوْلَهُ فَعَجِبُوا لِنَعْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَفِيهِمْ. قَالَ أَبُو عَلْقَمَةَ: أَقْسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَا نَعْلَمُ أَنَّهُ أَقْسَمَ فِي حَدِيثٍ مِثْلَهُ وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْكِتَابِ عَنِ ابْنِ زُغْبٍ الْإِيَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَوَالَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيُفْتَحَنَّ لَكُمُ الشَّامُ، ثُمَّ لَتَقْسِمُنَّ كُنُوزَ فَارِسَ وَالرُّومِ ".سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، ہم نے ننگے پن، فقر اور قلتِ اشیاء کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے تمہارے اوپر چیزوں کی کثرت کا قلت سے زیادہ خوف ہے، اللہ کی قسم! تمہاری یہ حالت رہے گی یہاں تک کہ اللہ فارس و روم اور حمیر کو فتح فرما دیں گے اور تم تین لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے، ایک لشکر شام میں، دوسرا عراق میں اور تیسرا لشکر یمن میں ہوگا، یہاں تک کہ کسی شخص کو سو روپے دیے جائیں گے تو وہ ناراض ہوگا۔“ ابن حوالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! شام اور روم کو فتح کرنے کی طاقت کون رکھے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں ضرور فتح نصیب کرے گا اور تمہیں خلیفہ بنائے گا، یہاں تک کہ وہ محفوظ ہو جائیں گے، بعض کے پاس جنگی لباس ہوگا، ان کی گردنیں ایک جھوٹے آدمی کی مطیع ہوں گی اور بعض ان میں سے گنجے ہوں گے، جو حکم ہوگا وہی کر گزریں گے اور تمہارے آج کے مرد ان کی نظروں میں اونٹوں کی پشتوں میں چچڑی سے بھی زیادہ حقیر ہوں گے۔“ ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر یہ وقت مجھے پا لے تو مجھے اختیار دینا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تیرے لیے ملک شام کا انتخاب کرتا ہوں کیونکہ یہ اللہ کے پسندیدہ شہروں میں سے ہے اور اللہ کے پسندیدہ بندے ہی اسی کی جانب پناہ لیں گے، اے اہل یمن! شام کو لازم پکڑنا کیونکہ اللہ کو شام کی سرزمین پسندیدہ ہے، خبردار! جو اس بات کا انکار کرے وہ یمن کی جانب چلا جائے کیونکہ اللہ نے شام والوں کی ضمانت دی ہے۔“
(ب) عبد الرحمن بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: صحابہ نے اس حدیث کی صفات کو جزا بن سہیل سلمی رضی اللہ عنہ میں پہچان لیا، وہ اس دور میں عجموہ پر امیر مقرر تھے، جب وہ مسجد کی طرف آئے تو لوگ ان کو دیکھنے کے لیے ان کے اردگرد کھڑے ہو جاتے، صحابہ نے ان میں اور ان کے ساتھیوں میں رسول اللہ ﷺ کی صفات کو دیکھ کر تعجب فرمایا؛ ابو علقمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار قسمیں اٹھائیں۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ شام کو فتح کروائے گا اور تم فارس و روم کے خزانے تقسیم کرو گے۔“