السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يؤذن إلا طاهر باب: صرف باطہارت (باوضو) شخص ہی اذان دے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1858
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ثنا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ " هَكَذَا رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ وَغَيْرِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”صرف باوضو شخص اذان دے۔“
(ب) زہری سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز کی اذان صرف باوضو شخص دے۔
اسے اس طرح (مرفوع) معاویہ بن یحییٰ صدفی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، صحیح یونس بن یزید ایلی وغیرہ کی زہری سے روایت ہے جس میں یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔