السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بيان النية التي يقاتل عليها ليكون في سبيل الله عز وجل باب: اس نیت کا بیان جس کے تحت جنگ کرنے سے وہ اللہ عزوجل کی راہ میں شمار ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ ضَمْرَةَ بْنَ حَبِيبٍ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ زُغْبٍ الْإِيَادِيِّ، قَالَ: نَزَلَ بِي عَبْدُ اللهِ بْنُ حَوَالَةَ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّهُ فَرَضَ لَهُ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَأَبَى إِلَّا مِائَةً، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَحَقٌّ مَا بَلَغَنَا أَنَّهُ فَرَضَ لَكَ فِي مِائَتَيْنِ، فَأَبَيْتَ إِلَّا مِائَةً؟ وَاللهِ مَا مَنَعَهُ وَهُوَ نَازِلٌ عَلَيَّ أَنْ يَقُولَ: لَا أُمَّ لَكَ أَوَلَا يَكْفِي ابْنَ حَوَالَةَ مِائَةٌ كُلَّ عَامٍ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا عَلَى أَقْدَامِنَا حَوْلَ الْمَدِينَةِ لِنَغْنَمَ، فَقَدِمْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِنَا مِنَ الْجَهْدِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلِيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَهُونُوا عَلَيْهِمْ وَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَكِنْ تَوَحَّدْ بِأَرْزَاقِهِمْ ". ثُمَّ قَالَ: لَيُفْتَحَنَّ لَكُمُ الشَّامُ ثُمَّ لَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَلَيَكُونَنَّ لِأَحَدِكُمْ مِنَ الْمَالِ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُعْطَى مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطُهَا ". ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ⦗٢٨٥⦘ فَقَالَ: " يَا ابْنَ حَوَالَةَ إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتِ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ فَقَدْ أَتَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَابِلُ وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ وَالسَّاعَةُ أَقْرَبُ إِلَى النَّاسِ مِنْ يَدِي هَذِهِ مِنْ رَأْسِكَ ".ابن زغب ایادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور ہمیں خبر ملی کہ ان کے لیے دو سو میں زکاۃ کو فرض کیا گیا ہے، انہوں نے سو کا انکار کر دیا۔ میں نے ان سے کہا: ہمیں جو خبر ملی ہے اس کے مطابق حق یہی ہے کہ آپ کے لیے دو سو میں زکاۃ فرض ہے اور آپ نے سو کا انکار کیا۔ اللہ کی قسم! جو ہونے والا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ ان کا مجھ سے «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ» ”تیری ماں مرے“ کہنا مجھ پر گراں نہیں تھا۔ اہل حوالہ کے لیے ہر مال میں ایک سو ہیں۔ سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے ہمیں پیدل مدینہ کے ارد گرد روانہ کیا تاکہ ہم غنیمت حاصل کریں لیکن ہم نے غنیمت حاصل نہ کی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ہماری مشقت کو دیکھا تو فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! تو ان کو میرے سپرد نہ کر، میں ان سے کمزور ہوں، اور نہ ہی تو ان کو ان کے نفسوں کے سپرد کر دے کہ وہ اس سے عاجز آ جائیں، اور نہ ہی تو ان کو لوگوں کو سونپ دینا کہ وہ ان کی تذلیل کریں یا وہ ان کے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ملکِ شام فتح کیا جائے گا اور فارس و روم کے خزانے تمہارے درمیان تقسیم کیے جائیں گے اور تم میں سے کسی کو اتنا اتنا مال ملے گا کہ سو دینار دیے جانے کے باوجود وہ شخص ناراض ہوگا۔“ پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”اے ابن حوالہ! جب تو دیکھے کہ خلافت ارضِ مقدسہ میں قائم ہو گئی ہے تو زلزلے، مصائب اور بڑے بڑے امور واقع ہوں گے اور قیامت لوگوں کے قریب ہو گی، (اتنی قریب جتنا) میرے اس ہاتھ سے جو تیرے سر کے اوپر ہے۔“