حدیث نمبر: 18547
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، ثنا بَقِيَّةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ ⦗٢٨٣⦘ بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْو، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَبَاشَرَ الشَّرِيكَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلَّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا، وَرِئَاءً، وَسُمْعَةً، وَعَصَى الْإِمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَنْ يَرْجِعَ بِكَفَافٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْحَضْرَمِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " وَعَصَى الْإِمَامَ وَلَمْ يُنْفِقِ الْكَرِيمَةَ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”غزوہ دو قسم کا ہے؛ وہ شخص جو اللہ کی رضا مندی کے لیے اور امیر کی اطاعت میں پسندیدہ چیز کو خرچ کرتا ہے اور اپنے ساتھی سے مل کر رہتا ہے اور فساد سے بچتا ہے، اس کے سونے اور بیدار رہنے میں اجر ہے، اور جس نے فخر، ریاکاری، شہرت، امام کی نافرمانی اور زمین میں فساد کرنے کی کوشش کی، وہ برابری کے ساتھ بھی نہ لوٹے گا۔“
(ب) ابوبحریہ عبداللہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔۔ جس کے آخر میں ہے کہ ”جس نے امام کی نافرمانی کی اور اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کی، وہ برابری کے ساتھ بھی نہ لوٹے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18547
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»