السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بيان النية التي يقاتل عليها ليكون في سبيل الله عز وجل باب: اس نیت کا بیان جس کے تحت جنگ کرنے سے وہ اللہ عزوجل کی راہ میں شمار ہو۔
حدیث نمبر: 18545
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِئَاءً، فَأِيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ ".حافظ ثناء اللہ
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک شخص بہادری کے لیے، دوسرا عصبیت کے لیے اور تیسرا ریا کاری کے لیے جہاد کرتا ہے، تو ان میں سے کون اللہ کے راستے میں ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو صرف اس لیے لڑائی کرے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے، وہی اللہ کے راستے میں ہے۔“