السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فضل الشهادة في سبيل الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کی راہ میں شہادت پانے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ المُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَانْهَزَمَ فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ ". وَرُوِيَ فِي مَعْنَاهُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مَرْفُوعًا.حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت دو آدمیوں سے تعجب فرماتے ہیں: ایک وہ جو اپنے بستر اور لحاف سے، اپنے محبوبوں اور گھر والوں کے درمیان سے نماز کے لیے اٹھتا ہے، میری نعمتوں میں رغبت کرتے ہوئے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے؛ اور ایک وہ شخص جو اللہ کے راستے میں لڑائی کرتے ہوئے شکست کھا جاتا ہے، وہ جانتا ہے کہ شکست کی وجہ سے اس پر ایک گناہ ہے اور واپس پلٹنے میں کیا ثواب ہے، تو وہ دوبارہ لڑائی کرتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے۔ اللہ رب العزت اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں: ”میرے بندے کی طرف دیکھو کہ میری نعمتوں میں رغبت کرتے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے واپس پلٹ کر جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔““