السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فضل الشهادة في سبيل الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کی راہ میں شہادت پانے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ⦗٢٧٦⦘ السَّكْسَكِيُّ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْأَمْلُوكِيِّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَتْلَى ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَلِكَ الْمُمْتَحَنُ فِي خَيْمَةِ اللهِ تَحْتَ عَرْشِهِ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ فَرِقَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ، فَتِلْكَ مَصْمَصَةٌ تَحُتُّ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ، إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا، وَقِيلَ لَهُ ادْخُلْ مِنْ أِيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شِئْتَ، فَإِنَّهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، بَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ - يَعْنِي أَبْوَابَ الْجَنَّةِ - وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَقَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَاكَ فِي النَّارِ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ ".سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مقتول تین قسم کے ہیں؛ ایسا شخص جو اپنی جان اور مال لے کر دشمن کے مقابلہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے تو اللہ اس شخص کو عرش کے نیچے جگہ عطا کرتے ہیں اور انبیاء نبوت کی وجہ سے ایک درجہ اس سے اوپر ہوتے ہیں، اور ایسا شخص جو گناہ کرنے کے بعد میدانِ جہاد میں دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے تو یہ شہادت اس کے گناہوں اور غلطیوں کو ختم کر دیتی ہے، کیونکہ تلوار غلطیوں کو ختم کرنے والی ہے اور ایسے شخص سے کہا جائے گا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں اور جنت کے دروازے ایک دوسرے سے فضیلت رکھتے ہیں، اور منافق آدمی جو اپنے مال و جان کے ساتھ میدانِ جہاد میں لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے تو یہ جہنمی ہے کیونکہ تلوار نفاق کو ختم نہیں کرتی۔“