السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: في فضل الجهاد في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: كَانَ الْحَدِيثُ يَبْلُغُنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ الْحَدِيثُ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ، فَقَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ فَقَدْ لَقِيتَ فَهَاتِ. فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَكُمْ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً، قَالَ: مَا إِخَالُنِي أَنْ أَكْذِبَ عَلَى خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: فَمَنِ ⦗٢٧٠⦘ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّ اللهُ؟ قَالَ: رَجُلٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ وَإِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ عِنْدَكُمْ: {إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا} [الصف: ٤]. قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: رَجُلٌ لَهُ جَارُ سُوءٍ فَهُوَ يُؤْذِيهِ فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ فَيَكْفِيهِ اللهُ إِيَّاهُ بِحَيَاةٍ أَوْ مَوْتٍ. قَالَ: وَمَنْ؟ قَالَ: رَجُلٌ كَانَ مَعَ قَوْمٍ فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا فَعَرَّسُوا وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الْكَرَى وَالنُّعَاسُ، وَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَنَامُوا وَقَامَ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى رَهْبَةً لِلَّهِ وَرَغْبَةً إِلَيْهِ. قُلْتُ: فَمَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُ؟ قَالَ: الْبَخِيلُ الْمَنَّانُ، وَالْمُخْتَالُ الْفَخُورُ، وَإِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ: {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: ١٨]. قَالَ: فَمَنِ الثَّالِثُ؟ قَالَ: التَّاجِرُ الْحَلَّافُ، أَوِ الْبَائِعُ الْحَلَّافُ.مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملی اور میں ان سے ملاقات کا شوق رکھتا تھا۔ جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ! آپ سے یہ حدیث ملی تھی اور ملاقات کا شوق بھی تھا، تو انہوں نے کہا: تیرے باپ کے لیے خرابی ہو۔ اب ملے ہو تو بتاؤ۔ میں نے کہا: آپ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تین چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور تین سے بغض رکھتا ہے۔“ کہتے ہیں (ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا): میرا خیال نہیں کہ میں اپنے دوست پر جھوٹ بولوں۔ میں نے کہا: وہ کون سی تین اشیاء ہیں جن کو اللہ پسند فرماتا ہے؟ فرمایا: ”پہلا کسی شخص کا دشمن سے قتال کرنا جیسے اللہ کی کتاب میں موجود ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ [سورة الصف: 4] کہ اللہ ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے جو اس کے راستہ میں صف باندھ کر جہاد کرتے ہیں۔“
میں نے پوچھا: دوسرا کون شخص ہے؟ فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے برے ہمسائے کی تکالیف پر صبر کرتا ہے تو اللہ اس کو زندگی کے اندر یا موت کے بعد اس کا بدلہ دے گا۔“ تیسرا بندہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو لوگوں کے ساتھ سفر میں شامل ہوتا ہے، لوگ پڑاؤ کرتے وقت سو جاتے ہیں لیکن یہ اللہ کے ڈر اور رغبت سے وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔“ وہ تین آدمی کون سے ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے؟ فرمایا: ”پہلا بخیل احسان جتانے والا، دوسرا فخر کرنے والا متکبر،“ اور یہ بھی اللہ کی کتاب میں موجود ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [سورة لقمان: 18] کہ اللہ متکبر فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ اس نے کہا: تیسرا شخص کون ہے؟ فرمایا: ”قسمیں اٹھانے والا تاجر یا قسمیں اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔“