السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: في فضل الجهاد في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْتَدَبَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرَسُولِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى بَيْتِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ ".رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وہ شخص جو اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے میرے ساتھ ایمان لانے اور میرے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے، تو میرے ذمہ ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں یا اس کو اس کے گھر واپس کروں جہاں سے وہ آیا ہے، اس حالت میں کہ جو اس نے ثواب اور غنیمت حاصل کی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے لیے زخم کھاتا ہے، وہ کل قیامت کے دن آئے گا، اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا، جس کی رنگت خون جیسی اور خوشبو کستوری جیسی ہوگی۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں کسی سریہ سے بھی پیچھے نہ رہتا، جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، نہ تو میں ان کے لیے سواریاں پاتا ہوں اور نہ ان کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ میرے پیچھے آ سکیں اور نہ ہی ان کو یہ پسند ہے کہ وہ میرے بعد پیچھے رہ سکیں۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں، پھر میں قتل کیا جاؤں، پھر میں جہاد کروں، پھر میں قتل کیا جاؤں، پھر میں جہاد کروں، پھر میں قتل کیا جاؤں۔“