السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الرجز عند الحرب باب: جنگ کے دوران رجز (جنگی اشعار) پڑھنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18474
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ، ⦗٢٦١⦘ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟ " قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. قَالَ: فَأَخَذَهُ، فَلَمَّا لَقِيَ الْعَدُوَّ جَعَلَ يَقُولُ:.حافظ ثناء اللہ
ہنیدہ رضی اللہ عنہ جو خزاعہ کے ایک فرد ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرے۔“ ایک شخص نے کہا: میں حق ادا کروں گا، اس نے تلوار لے کر دشمن سے لڑائی کرتے ہوئے کہا: میں وہ آدمی ہوں جس نے اپنے خلیل سے بیعت کی ہے، جب ہم کھجور کے نیچے تھے، میں بزدلی سے نہیں رہوں گا، میں اللہ اور رسول ﷺ کی تلوار چلاتا رہوں گا، دوسروں نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ آخر کار وہ شہید ہو گئے۔