السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الرجز عند الحرب باب: جنگ کے دوران رجز (جنگی اشعار) پڑھنے کی اجازت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِتَالِهِ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ:.ابن اسحاق غزوہ موتہ میں سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا قصہ ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے جنت! تو قریب ہے۔ تیرا پینا پاکیزہ اور ٹھنڈا ہے۔
اور رومی ایسے لوگ ہیں کہ عذاب ان کے قریب ہے۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا قتل میرے ذمہ ہے۔
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم کہتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن جھنڈا پکڑا تو یہ اشعار پڑھے: اے جان! میں نے قسم کھائی ہے کہ تجھے خوشی سے یا ناپسندیدگی کے باوجود لڑائی میں اترنا ہی پڑے گا۔
اگرچہ لوگ جمع ہو کر سخت شور ہی کیوں نہ کریں۔ میں دیکھتا ہوں کہ تو جنت سے کراہت کرتی ہے۔
تو نے حالتِ اطمینان میں زندگی گزاری ہے، تو تو صرف ایک نطفہ ہی ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں آپ نے یہ بھی کہا: اے جان! اگر تو قتل نہ ہوئی تو بھی فوت تو ہونا ہی ہے۔ یہ موت کا چشمہ ہے جہاں تو پہنچ چکی ہے اور جو تو نے خواہش کی تھی وہ تجھے دے دیا گیا ہے۔ اگر تو نے یہ دونوں کام (یعنی سیدنا جعفر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما کی پیروی) کر لیے تو بہتر ہے۔ اگر تو پیچھے ہٹ گئی تو بدبخت ہے۔
ان کا ارادہ سیدنا جعفر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما تھے۔ پھر انہوں نے آگے بڑھ کر لڑائی کی اور شہید کر دیے گئے۔