السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأسير يؤمن فلا يكون له أن يغتالهم في أموالهم وأنفسهم باب: قیدی کو جب امان دے دی جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان (دشمنوں) کی جانوں اور مالوں کے حوالے سے دھوکہ دہی کرے۔
حدیث نمبر: 18422
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَدَّثَنِي ⦗٢٤١⦘ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ عَلَى نَفْسِهِ ثُمَّ قَتَلَهُ فَأَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی کسی شخص کو امان دے کر قتل کر دے تو میں قاتل سے بری الذمہ ہوں، اگرچہ مقتول کافر ہی کیوں نہ ہو۔“