حدیث نمبر: 18408
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ اشْتَرَى أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْحِيرَةِ يُقَالُ لَهَا زُبَا قَالَ: وَقَالَ الْحَكَمُ: وَكَانُوا يُرَخِّصُونَ فِي شِرَاءِ أَرْضِ الْحِيرَةِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمْ صُلْحٌ. قَالَ يَحْيَى: وَسَأَلْتُ حَسَنَ بْنَ صَالِحٍ فَكَرِهَ شِرَاءَ أَرْضِ الْخَرَاجِ الَّتِي أُخِذَتْ عَنْوَةً فَوُضِعَ عَلَيْهَا الْخَرَاجُ فَلَمْ يَرَ بَأْسًا بِشِرَاءِ أَرْضِ أَهْلِ الصُّلْحِ.
حافظ ثناء اللہ

حکم رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حیرہ کی زمین خریدی جس کو زت کہا جاتا تھا اور حیرہ کی زمین خریدنے کی رخصت تھی کیونکہ یہ صلح کی زمین تھی۔ (ب) یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے خراج والی زمین کو خریدنے کو ناپسند فرمایا، جس کو لڑائی سے حاصل کیا گیا ہو اور اس پر جزیہ لاگو کیا گیا ہو اور صلح کی زمین خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18408
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»