السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من رأى قسمة الأراضي المغنومة ومن لم يرها باب: اس شخص کا بیان جو مالِ غنیمت میں ملنے والی زمینوں کی تقسیم کا قائل ہے اور جو اس کا قائل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18388
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا، جَمَعَ كُلَّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ، فَكَانَ النِّصْفُ سِهَامًا لِلْمُسْلِمِينَ وَسَهْمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَزَلَ النِّصْفَ لِمَا يَنُوبُهُ مِنَ الْأُمُورِ وَالنَّوَائِبِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لِأَنَّهُ افْتَتَحَ بَعْضَ خَيْبَرَ عَنْوَةً وَبَعْضَهَا صُلْحًا، فَمَا قَسَمَ بَيْنَهُمْ هُوَ مَا افْتَتَحَهُ عَنْوَةً، وَمَا تَرَكَهُ لِنَوَائِبِهِ هُوَ مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ.حافظ ثناء اللہ
بشیر بن یسار نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر کو فتح کیا اور مالِ غنیمت کو 36 حصوں میں تقسیم کر دیا اور تمام حصے سو میں تقسیم کیے۔ نصف حصے مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے تھے اور نصف حصے ان کے لیے الگ کر لیے جن کو مختلف امور سر انجام دینے پر مقرر کیا ہوا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: خیبر کا بعض حصہ لڑائی کی وجہ سے حاصل ہوا اور کچھ حصہ صلح کے ساتھ، جو آپ ﷺ نے تقسیم کیا وہ تھا جو لڑائی کے ذریعے حاصل کیا گیا اور جو مصیبت زدہ لوگوں کے لیے چھوڑا وہ تھا جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا۔