السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من رأى قسمة الأراضي المغنومة ومن لم يرها باب: اس شخص کا بیان جو مالِ غنیمت میں ملنے والی زمینوں کی تقسیم کا قائل ہے اور جو اس کا قائل نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْإِبِلَ وَالْبَقَرَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ، وَهَبَهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا". فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ فَقَالَ: هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو.سالم بن مطیع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو مالِ غنیمت میں سونا چاندی حاصل نہ ہوا بلکہ اونٹ، گائے، سامان اور باغ ملے۔ پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وادی قریٰ میں آئے تو آپ ﷺ کے ساتھ ایک غلام تھا جس کو مدعم کہا جاتا تھا، یہ بنو ضباب کے ایک شخص نے آپ ﷺ کو ہبہ کیا تھا۔ ایک مرتبہ مدعم رسول اللہ ﷺ کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ اچانک اس کو نامعلوم جانب سے آنے والا تیر لگا جس سے وہ فوت ہو گیا۔ لوگوں نے کہا: مبارک ہو، یہ شخص جنتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک وہ چادر جس کو اس نے جنگ خیبر کے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اٹھایا تھا، وہ اس پر آگ بن کر لپٹی ہوئی ہے۔“ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک یا دو تسمے آپ ﷺ کے پاس لایا، اس نے کہا: یہ مجھے ملے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں۔“