وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِجَرِيرٍ: هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ الْعِرَاقَ وَلَكَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ بَعْدَ الْخُمُسِ مِنْ كُلِّ أَرْضٍ وَشَيْءٍ. هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالَّذِي قَبْلَهُ مَوْصُولٌ، وَلَيْسَ فِي الْآثَارِ الَّتِي رُوِّينَاهَا وَلَمْ نَرُدَّهَا فِي سَوَادِ الْعِرَاقِ أَصَحُّ مِنْهُ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ⦗٢٢٩⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دِلَالَةٌ إِذْ أَعْطَى جَرِيرًا الْبَجَلِيَّ عِوَضًا مِنْ سَهْمِهِ، وَالْمَرْأَةَ عِوَضًا مِنْ سَهْمِ أَبِيهَا أَنَّهُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ الَّذِينَ أَوْجَفُوا عَلَيْهِ، فَتَرَكُوا حُقُوقَهُمْ مِنْهُ، فَجَعَلَهُ وَقْفًا لِلْمُسْلِمِينَ، وَهَذَا حَلَالٌ لِلْإِمَامِ لَوِ افْتُتِحَ الْيَوْمَ أَرْضٌ عَنْوَةً فَأَحْصَى مَنِ افْتَتَحَهَا وَطَابُوا أَنْفُسًا عَنْ حُقُوقِهِمْ مِنْهَا أَنْ يَجْعَلَهَا الْإِمَامُ وَقْفًا، وَحُقُوقُهُمْ مِنْهَا الْأَرْبَعَةُ الْأَخْمَاسِ وَيُوَفَّى أَهْلُ الْخُمُسِ حَقَّهُمْ، إِلَّا أَنْ يَدَعَ الْبَالِغُونَ مِنْهُمْ حُقُوقَهُمْ فَيَكُونَ ذَلِكَ لَهُ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَرْضِ كَالْحُكْمِ فِي الْمَالِ، وَقَدْ سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ وَقَسَمَ أَرْبَعَةَ الْأَخْمَاسِ بَيْنَ الْمُوجِفِينَ، ثُمَّ جَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَمُنَّ عَلَيْهِمْ بِأَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْهُمْ، فَخَيَّرَهُمْ بَيْنَ الْأَمْوَالِ وَالسَّبْيِ، فَقَالُوا: خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا فَنَخْتَارُ أَحْسَابَنَا، فَتَرَكَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَّهُ وَحَقَّ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَسَمِعَ بِذَلِكَ الْمُهَاجِرُونَ فَتَرَكُوا لَهُ حُقُوقَهُمْ، وَسَمِعَ بِذَلِكَ الْأَنْصَارُ فَتَرَكُوا لَهُ حُقُوقَهُمْ، وَبَقِيَ قَوْمٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْآخِرِينَ وَالْفَتْحِيِّينَ فَأَمَرَ فَعَرَفَ عَلَى كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ: " ائْتُونِي بِطِيبِ أَنْفُسِ مَنْ بَقِيَ فَمَنْ كَرِهَ فَلَهُ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْإِبِلِ " إِلَى وَقْتٍ ذَكَرَهُ فَجَاءُوا بِطِيبِ أَنْفُسِهِمْ إِلَّا الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ فَإِنَّهُمَا أَبَيَا لِيُعَيِّرَا هَوَازِنَ، فَلَمْ يُكْرِهْهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، حَتَّى كَانَا هُمَا تَرَكَا بَعْدَ أَنْ خَدَعَ عُيَيْنَةُ عَنْ حَقِّهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَّ مَنْ طَابَ نَفْسُهُ عَنْ حَقِّهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا أَوْلَى الْأُمُورِ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَنَا فِي السَّوَادِ وَفُتُوحِهِ إِنْ كَانَتْ عَنْوَةً، وَهَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ مِنْ أَمْرِ هَوَازِنَ قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ عراق میں میرے پاس آ سکتے ہیں؟ آپ کو چوتھائی یا تہائی حصہ خمس کے بعد تمام زمین سے دیا جائے گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ جب جریر بجلی کو اس کے حصے کا عوض دیا گیا جیسے عورت کو اس کے باپ کے حصے کا عوض دیا گیا، یہ ان لوگوں کی خوشی سے تھا جنہوں نے اس پر گھوڑے دوڑائے تھے۔ انہوں نے اپنے حقوق چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیے۔ امام کے لیے جائز ہے کہ اگر آج کسی زمین کو فتح کرے تو فاتحین میں تقسیم کر دے اور وہ اپنی خوشی سے امام کے لیے وقف کر دیں اور خمس بھی مکمل ادا کیا جائے۔ ورنہ بالغ لوگ اپنے حصے چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ بھی امام لے سکتا ہے اور زمین کا حکم بھی مال کی مانند ہے اور نبی ﷺ نے ہوازن کے لوگ قیدی بنائے اور ان کا مال فاتحین میں تقسیم کر دیا۔ پھر ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو انہوں نے احسان کرنے کی اپیل کی تو آپ ﷺ نے انہیں قیدیوں اور مال میں سے کسی ایک چیز لینے کا اختیار دیا تو انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ نے ہمیں ہمارے نسبوں اور مالوں میں اختیار دیا ہے، ہم اپنے نسبوں کو اختیار کرتے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے اپنا اور اہل بیت کا حق چھوڑ دیا۔ جب مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے حقوق چھوڑ دیے، باقی لوگوں پر دس میں سے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ ”مجھے خبر دو، ورنہ اتنے اتنے ادا کیے جائیں گے۔“ آپ ﷺ نے وقت کا تعین فرما دیا، اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ ان دونوں نے ہوازن کو عار دلانے کے لیے انکار کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ بعد میں دونوں نے اپنا حق چھوڑ بھی دیا۔ عیینہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا حق دل کی خوشی سے چھوڑ دیا تھا۔