حدیث نمبر: 18376
أَخْبَرَنَاهُ الثِّقَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَتْ بَجِيلَةُ رُبْعَ النَّاسِ فَقُسِمَ لَهُمْ رُبْعُ السَّوَادِ فَاسْتَغَلُّوهُ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعَ سِنِينَ، أَنَا شَكَكْتُ، ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَعِي فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ، امْرَأَةٌ مِنْهُمْ قَدْ سَمَّاهَا لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُ اسْمِهَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَتَرَكْتُكُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، وَلَكِنْ أَرَى أَنْ تَرُدُّوا عَلَى النَّاسِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَكَانَ فِي حَدِيثِهِ: وَعَاضَنِي مِنْ حَقِّي فِيهِ نَيِّفًا وَثَمَانِينَ، وَكَانَ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَتْ فُلَانَةُ: شَهِدَ أَبِي الْقَادِسِيَّةَ وَثَبَتَ سَهْمُهُ وَلَا أُسْلِمُهُ حَتَّى تُعْطِيَنِي كَذَا وَتُعْطِيَنِي كَذَا. فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ⦗٢٢٨⦘ فَذَكَرَهَا وَذَكَرَ قِصَّةَ الْمَرْأَةِ وَذَكَرَ أَنَّهَا أُمُّ كُرْزٍ، وَذَكَرَ أَنَّهَا قَالَتْ: وَإِنِّي لَسْتُ أُسْلِمُ حَتَّى تَحْمِلَنِي عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ وَعَلَيْهَا قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ وَتَمْلَأُ كَفِّي ذَهَبًا، فَفَعَلَ ذَلِكَ، وَكَانَتِ الدَّنَانِيرُ نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ دِينَارًا.
حافظ ثناء اللہ

قیس بن ابی حازم سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بجیلہ لوگوں کا چوتھائی حصہ تھا، ان کے لیے سواد کا چوتھائی حصہ تقسیم کر دیا گیا، انہوں نے تین یا چار سال تک غلہ حاصل کیا۔ میں نے شکایت کی، پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میرے ساتھ انہیں میں سے ایک عورت تھی، اس کا نام ذکر کرنا یاد نہیں رہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر مجھے پوچھے جانے کا خوف نہ ہو تو تمہاری تقسیم پر ہی چھوڑ دوں، لیکن میرا خیال ہے کہ تم لوگوں پر واپس کر دو گے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے: ”اس نے مجھے میرے حق کا بدلہ دیا ہے جو اسی دینار سے بھی زیادہ ہے“ اور دوسری حدیث میں ہے کہ اس عورت نے کہا: ”میرا باپ جنگِ قادسیہ میں موجود تھا، اس کا حصہ مقرر تھا، میں اس کو نہ چھوڑوں گی، مجھے اتنا اتنا دیا جائے۔“ انہوں نے ادا کر دیا۔
(ب) ہشیم اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے عورت کا قصہ ذکر کیا جو ام کرز رضی اللہ عنہا تھی، کہنے لگی: ”اب مجھے اونٹنی پر سوار کریں جس پر سرخ رنگ کی چادر ہو اور میرے دونوں ہاتھوں کو سونے سے بھر دو۔“ پھر انہوں نے دیے اور دینار تقریباً اسی تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18376
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»