أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حِينَ افْتَتَحَ الْعِرَاقَ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ بَلَغَنِي كِتَابُكَ تَذْكُرُ أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوكَ أَنْ تَقْسِمَ بَيْنَهُمْ مَغَانِمَهُمْ وَمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَانْظُرْ مَا أَجْلَبَ النَّاسُ عَلَيْكَ إِلَى الْعَسْكَرِ مِنْ كُرَاعٍ أَوْ مَالٍ فَاقْسِمْهُ بَيْنَ مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاتْرُكِ الْأَرَضِينَ وَالْأَنْهَارَ لِعُمَّالِهَا، فَيَكُونُ ذَلِكَ فِي أَعْطِيَاتِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّكَ إِنْ قَسَمْتَهَا بَيْنَ مَنْ حَضَرَ لَمْ يَكُنْ لِمَنْ بَقِيَ بَعْدَهُمْ شَيْءٌ.یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو عراق کی فتح کے موقع پر خط لکھا: حمد و ثنا کے بعد! مجھے آپ کا خط ملا جس میں آپ نے تذکرہ کیا ہے کہ لوگ آپ سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا سوال کرتے ہیں اور جو اللہ نے آپ پر لوٹایا ہے؛ جب میرا خط آپ کے پاس آئے تو دیکھنا، جو گھوڑے یا مال لوگ لشکر میں آپ کے پاس لائے ہیں اس کو موجود مسلمانوں کے اندر تقسیم کر دیں، زمینیں اور نہریں ان پر کام کرنے والوں کے لیے چھوڑ دیں، تاکہ یہ (آمدنی) مسلمانوں کے وظائف میں شامل ہو۔ اگر آپ نے موجود لوگوں کے اندر ہی تقسیم کر دیا تو بعد والوں کے لیے کچھ نہ بچے گا۔