حدیث نمبر: 18362
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْتَهَيْنَا إِلَى أَهْلِ الْحِيرَةِ فَصَالَحْنَاهُمْ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ وَرَحْلٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: مَا صَنَعْتُمْ بِذَلِكَ الرَّحْلِ؟ قَالَ: صَاحِبٌ لَنَا لَمْ يَكُنْ لَهُ رَحْلٌ. كَذَا فِي كِتَابِي: أَلْفِ دِرْهَمٍ، وَقَالَ غَيْرُهُ: سَبْعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ.
حافظ ثناء اللہ

اسود بن قیس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم حیرہ والوں کے پاس پہنچے تو ایک ہزار درہم اور سواری کے عوض ان سے صلح کی۔ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: تم نے اس سواری کا کیا کیا؟ کہتے ہیں: ہمارا ایک ساتھی تھا جس کے پاس سواری نہ تھی۔ اس طرح میری کتاب میں ہزار درہم تو دوسروں نے کہا: ستر ہزار درہم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18362
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»