حدیث نمبر: 18360
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: لَيْسَ لِأَهْلِ السَّوَادِ عَهْدٌ إِلَّا أَرْضَ الْحِيرَةِ وَأَلِيسَ وَبَانِقْيَا. قَالَ شَرِيكٌ: إِنَّ أَهْلَ بَانِقْيَا كَانُوا دَلُّوا جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَلَى مَخَاضَةٍ، وَأَهْلُ أَلِيسَ كَانُوا أَنْزَلُوا أَبَا عُبَيْدَةَ وَدَلُّوهُ عَلَى شَيْءٍ. قَالَ يَحْيَى: أَظُنُّهُ يَعْنِي عَوْرَةً لِلْعَدُوِّ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل سواد کا کوئی معاہدہ نہیں سوائے حیرہ، لیّس اور بانقیا کی زمین کے، شریک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل بانقیا نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی (دریا کی) ایک گزرگاہ کی طرف راہنمائی کی تھی اور اہل لیّس نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ہاں ٹھہرایا تھا اور کسی چیز کی طرف ان کی راہنمائی کی تھی، یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کی مراد دشمن کی کمزور جگہ ہے۔