السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في نقل الرءوس باب: (مقتولین کے) سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18354
قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَدُوَّ فَقَالَ: " مَنْ جَاءَ بِرَأْسٍ فَلَهُ عَلَى اللهِ مَا تَمَنَّى ". فَجَاءَهُ رَجُلَانِ بِرَأْسٍ فَاخْتَصَمَا فِيهِ، فَقَضَى بِهِ لِأَحَدِهِمَا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ. فَهَذَا حَدِيثٌ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ إِنْ ثَبَتَ تَحْرِيضٌ عَلَى قَتْلِ الْعَدُوِّ، وَلَيْسَ فِيهِ نَقْلُ الرَّأْسِ مِنْ بِلَادِ الشِّرْكِ إِلَى بِلَادِ الْإِسْلَامِ.حافظ ثناء اللہ
بشیر بن عقبہ، ابو نضرہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دشمن سے ملے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو سر لے کر آئے اس کے لیے وہی چیز ہے جو وہ اللہ سے خواہش کرے۔“ دو آدمی ایک سر لے کر آئے اور اس کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کے لیے فیصلہ کر دیا۔
(ب) اگر یہ حدیث ثابت بھی ہو جائے تو صرف دشمنوں کے قتل پر ابھارنا مقصود ہے نہ کہ سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔