السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في نقل الرءوس باب: (مقتولین کے) سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: هَاجَرْنَا عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ قُدِمَ عَلَيْنَا بِرَأْسِ يَنَاقٍ الْبِطْرِيقِ، وَلَمْ تَكُنْ لَنَا بِهِ حَاجَةٌ، إِنَّمَا هَذِهِ سُنَّةُ الْعَجَمِ.حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہجرت کی، ہم ان کے پاس ہی تھے، جس وقت وہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا کہ ہمارے پاس یناق بطریق کا سر لایا گیا ہے، حالانکہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں، یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۔